ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی — مرزا غالب

ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے

saaqi ba-jalva dushman-e-imaan-o-aagahimutrib ba-naghma rahzan-e-tamkeen-o-hosh hai

  • آگہی aagahiسمجھ، شعور (awareness)
  • مطرب mutribگانے والا (singer)
  • رہزن rahzanلٹیرا (robber)
  • تمکین tamkeenوقار (composure)

آسان تشریح

ساقی اپنے جلوے سے ایمان اور شعور کا دشمن ہے، اور مطرب اپنے نغمے سے وقار اور ہوش کا لٹیرا۔ عیش وہی چیزیں چھین لیتا ہے جو سب سے قیمتی ہیں۔

In plain English

The cup-bearer's beauty is the enemy of faith and good sense; the singer's song robs you of composure and wits. Pleasure steals what matters most.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 158. It means: The cup-bearer's beauty is the enemy of faith and good sense; the singer's song robs you of composure and wits. Pleasure steals what matters most.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

ساقی اپنے جلوے سے ایمان اور شعور کا دشمن ہے، اور مطرب اپنے نغمے سے وقار اور ہوش کا لٹیرا۔ عیش وہی چیزیں چھین لیتا ہے جو سب سے قیمتی ہیں۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار