اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دلزنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
ai taaza-vaaridaan-e-bisaat-e-havaa-e-dilzinhaar agar tumhen havas-e-naa-e-o-nosh hai
تازہ واردانtaaza-vaaridaanنئے آنے والے (newcomers)
بساطِ ہوائے دلbisaat-e-havaa-e-dilدل کی خواہشوں کی محفل (the party of the heart's desires)
زنہارzinhaarخبردار (beware)
نائے و نوشnaa-e-o-noshبانسری اور شراب، عیش (music and wine, pleasure)
آسان تشریح
اے دل کی خواہشوں کی محفل میں نئے آنے والو، خبردار! اگر تمہیں ساز اور شراب کی ہوس ہے۔ یہ مشہور قطعے کا آغاز ہے جس میں ایک تجربہ کار نوجوانوں کو عیش کے انجام سے خبردار کرتا ہے۔
In plain English
O newcomers to the party of desire, beware, if you long for music and wine. The opening of a famous qita in which an old hand warns the young about where pleasure leads.
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 158. It means: O newcomers to the party of desire, beware, if you long for music and wine. The opening of a famous qita in which an old hand warns the young about where pleasure leads.
کارڈ بنائیں
واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158 سے لیا ہے۔
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
اے دل کی خواہشوں کی محفل میں نئے آنے والو، خبردار! اگر تمہیں ساز اور شراب کی ہوس ہے۔ یہ مشہور قطعے کا آغاز ہے جس میں ایک تجربہ کار نوجوانوں کو عیش کے انجام سے خبردار کرتا ہے۔