ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے — مرزا غالب

ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہےاک شمع ہے دلیلِ سحر، سو خموش ہے

zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh haiik sham' hai daleel-e-sahar, so khamosh hai

  • ظلمت کدے zulmat-kadeاندھیرا گھر (house of darkness)
  • دلیلِ سحر daleel-e-saharصبح کی نشانی (the sign of dawn)
  • خموش khamoshبجھی ہوئی (extinguished)

آسان تشریح

میرے اندھیرے گھر میں غم کی رات زوروں پر ہے؛ ایک شمع ہے جو صبح کی نشانی ہے، سو وہ بجھ چکی ہے۔ صبح ہوتے ہی شمع بجھا دی جاتی تھی؛ بجھی شمع صبح کی خبر دیتی ہے مگر اندھیرا ختم نہیں ہوتا۔

In plain English

In my dark house the night of grief is at its height; there is one candle that signals dawn, and it has gone out. Candles were put out at daybreak, so the dead candle should mean morning, yet the darkness goes on.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 157. It means: In my dark house the night of grief is at its height; there is one candle that signals dawn, and it has gone out. Candles were put out at daybreak, so the dead candle should mean morning, yet the darkness goes on.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

میرے اندھیرے گھر میں غم کی رات زوروں پر ہے؛ ایک شمع ہے جو صبح کی نشانی ہے، سو وہ بجھ چکی ہے۔ صبح ہوتے ہی شمع بجھا دی جاتی تھی؛ بجھی شمع صبح کی خبر دیتی ہے مگر اندھیرا ختم نہیں ہوتا۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار