دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو — مرزا غالب

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سنو جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

dekho mujhe jo deeda-e-ibrat-nigaah homeri suno jo gosh-e-naseehat-niyosh hai

  • دیدۂ عبرت نگاہ deeda-e-ibrat-nigaahسبق لینے والی آنکھ (an eye that learns from example)
  • گوشِ نصیحت نیوش gosh-e-naseehat-niyoshنصیحت سننے والا کان (an ear that heeds advice)

آسان تشریح

اگر تمہاری آنکھ سبق لینے والی ہے تو مجھے دیکھو، اور اگر کان نصیحت سننے والے ہیں تو میری سنو۔ کہنے والا اپنی برباد زندگی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

In plain English

Look at me, if you have eyes that can learn a lesson; listen to me, if you have ears that take advice. The speaker offers his own ruined life as the example.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 158. It means: Look at me, if you have eyes that can learn a lesson; listen to me, if you have ears that take advice. The speaker offers his own ruined life as the example.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: نوجوان اور طلبہ، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 158 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

اگر تمہاری آنکھ سبق لینے والی ہے تو مجھے دیکھو، اور اگر کان نصیحت سننے والے ہیں تو میری سنو۔ کہنے والا اپنی برباد زندگی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار