نے مژدۂ وصال نہ نظارۂ جمال — مرزا غالب

نے مژدۂ وصال نہ نظارۂ جمالمدت ہوئی کہ آشتیِ چشم و گوش ہے

ne muzhda-e-visaal na nazzaara-e-jamaalmuddat hui ke aashti-e-chashm-o-gosh hai

  • مژدۂ وصال muzhda-e-visaalملنے کی خوشخبری (news of union)
  • نظارۂ جمال nazzaara-e-jamaalحسن کا دیدار (sight of beauty)
  • آشتی aashtiصلح (peace, truce)

آسان تشریح

نہ ملنے کی خوشخبری کانوں تک آتی ہے نہ حسن کا نظارہ آنکھوں تک؛ مدت ہوئی کہ آنکھ اور کان میں صلح ہو چکی ہے۔ جب دیکھنے اور سننے کو کچھ نہ ہو تو دونوں میں مقابلہ بھی نہیں رہتا۔

In plain English

No good news of meeting reaches my ears and no sight of beauty reaches my eyes; it has been a long time since my eyes and ears made peace. With nothing to see or hear, the two senses no longer compete.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 157. It means: No good news of meeting reaches my ears and no sight of beauty reaches my eyes; it has been a long time since my eyes and ears made peace. With nothing to see or hear, the two senses no longer compete.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

نہ ملنے کی خوشخبری کانوں تک آتی ہے نہ حسن کا نظارہ آنکھوں تک؛ مدت ہوئی کہ آنکھ اور کان میں صلح ہو چکی ہے۔ جب دیکھنے اور سننے کو کچھ نہ ہو تو دونوں میں مقابلہ بھی نہیں رہتا۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار