دیدار، بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مست — مرزا غالب

دیدار، بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مستبزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے

deedaar, baada, hausla saaqi, nigaah mastbazm-e-khayaal mai-kada-e-be-kharosh hai

  • بادہ baadaشراب (wine)
  • بزمِ خیال bazm-e-khayaalتصور کی محفل (the gathering of imagination)
  • بے خروش be-kharoshبے شور (without noise)

آسان تشریح

دیدار شراب ہے، حوصلہ ساقی ہے اور نگاہ مست ہے؛ خیال کی محفل ایک خاموش میکدہ ہے۔ عاشق پوری محفل کا لطف اپنے تصور ہی میں اٹھا لیتا ہے۔

In plain English

The sight of her is the wine, my courage is the cup-bearer, and my gaze is the drunkard; the gathering in my mind is a silent tavern. The lover enjoys the whole party in his imagination.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 157. It means: The sight of her is the wine, my courage is the cup-bearer, and my gaze is the drunkard; the gathering in my mind is a silent tavern. The lover enjoys the whole party in his imagination.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دل، عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دیدار شراب ہے، حوصلہ ساقی ہے اور نگاہ مست ہے؛ خیال کی محفل ایک خاموش میکدہ ہے۔ عاشق پوری محفل کا لطف اپنے تصور ہی میں اٹھا لیتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار