پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں — مرزا غالب

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے

phir usi be-vafaa pe marte hainphir vahi zindagi hamaari hai

  • بے وفا be-vafaaوفا نہ کرنے والا (faithless one)
  • مرتے ہیں marte hainجان دیتے ہیں، فدا ہیں (are dying for)

آسان تشریح

پھر اسی بے وفا پر جان دیتے ہیں؛ پھر وہی پرانی زندگی ہماری ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ محبوب بدلے گا نہیں، پھر بھی اسی پرانی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

In plain English

Once again we are dying for that same faithless one; once again our life is what it was. The lover knows the beloved will not change, yet falls into the same old love.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 152. It means: Once again we are dying for that same faithless one; once again our life is what it was. The lover knows the beloved will not change, yet falls into the same old love.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

پھر اسی بے وفا پر جان دیتے ہیں؛ پھر وہی پرانی زندگی ہماری ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ محبوب بدلے گا نہیں، پھر بھی اسی پرانی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار