پھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز — مرزا غالب

پھر کھلا ہے درِ عدالتِ نازگرم بازارِ فوجداری ہے

phir khulaa hai dar-e-adaalat-e-naazgarm baazaar-e-faujdaari hai

  • درِ عدالتِ ناز dar-e-adaalat-e-naazمحبوب کی عدالت کا دروازہ (the door of the beloved's court)
  • فوجداری faujdaariجرم کا مقدمہ (criminal cases)

آسان تشریح

محبوب کے ناز کی عدالت کا دروازہ پھر کھل گیا ہے اور فوجداری مقدموں کا بازار گرم ہے۔ یہ قطعے کا آغاز ہے جس میں عاشق کا دکھ عدالتی مقدمہ بن جاتا ہے۔

In plain English

The court of the beloved's pride is open again, and criminal cases are doing a brisk trade. The start of a qita that turns the lover's suffering into a trial in court.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 153. It means: The court of the beloved's pride is open again, and criminal cases are doing a brisk trade. The start of a qita that turns the lover's suffering into a trial in court.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

محبوب کے ناز کی عدالت کا دروازہ پھر کھل گیا ہے اور فوجداری مقدموں کا بازار گرم ہے۔ یہ قطعے کا آغاز ہے جس میں عاشق کا دکھ عدالتی مقدمہ بن جاتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار