دل ہوائے خرامِ ناز سے پھر — مرزا غالب

دل ہوائے خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بے قراری ہے

dil havaa-e-khiraam-e-naaz se phirmahshar-istaan-e-beqaraari hai

  • خرامِ ناز khiraam-e-naazادا سے چلنا (the beloved's graceful walk)
  • محشرستان mahshar-istaanقیامت کا میدان (a scene of doomsday)

آسان تشریح

محبوب کی ناز بھری چال کی آرزو نے دل کو پھر بے قراری کا میدانِ حشر بنا دیا ہے۔ اس کی چال کا خیال ہی اندر قیامت برپا کر دیتا ہے۔

In plain English

Longing for her graceful walk has once again turned my heart into a doomsday of restlessness. Just the thought of how she walks causes an uproar inside.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 152. It means: Longing for her graceful walk has once again turned my heart into a doomsday of restlessness. Just the thought of how she walks causes an uproar inside.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دل، عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

محبوب کی ناز بھری چال کی آرزو نے دل کو پھر بے قراری کا میدانِ حشر بنا دیا ہے۔ اس کی چال کا خیال ہی اندر قیامت برپا کر دیتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار