ہو رہا ہے جہان میں اندھیر — مرزا غالب

ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے

ho rahaa hai jahaan mein andherzulf ki phir sarishta-daari hai

  • اندھیر andherاندھیرا، ظلم (darkness, injustice)
  • زلف zulfگیسو (tresses)
  • سرشتہ داری sarishta-daariعدالت کا کلرکی عہدہ (post of court clerk)

آسان تشریح

دنیا میں اندھیر مچا ہے کیونکہ زلف پھر عدالت کی سرشتہ دار بن گئی ہے۔ ’’اندھیر‘‘ کے دو معنی ہیں: اندھیرا اور ظلم، اور سیاہ زلف عدالت چلا رہی ہے۔

In plain English

Darkness and injustice spread over the world, because the beloved's black tresses are court clerk again. Andher means both darkness and injustice, and the dark curls run the court.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 153. It means: Darkness and injustice spread over the world, because the beloved's black tresses are court clerk again. Andher means both darkness and injustice, and the dark curls run the court.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دنیا میں اندھیر مچا ہے کیونکہ زلف پھر عدالت کی سرشتہ دار بن گئی ہے۔ ’’اندھیر‘‘ کے دو معنی ہیں: اندھیرا اور ظلم، اور سیاہ زلف عدالت چلا رہی ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار