پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے — مرزا غالب

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےسینہ جویائے زخمِ کاری ہے

phir kuchh ik dil ko beqaraari haiseena joyaa-e-zakhm-e-kaari hai

  • بے قراری beqaraariبے چینی (restlessness)
  • جویا joyaaتلاش کرنے والا (seeking)
  • زخمِ کاری zakhm-e-kaariگہرا زخم (a deep wound)

آسان تشریح

دل کو پھر کچھ بے چینی ہے؛ سینہ کسی گہرے زخم کی تلاش میں ہے۔ عاشق محسوس کرتا ہے کہ محبت پھر جاگ رہی ہے اور وہ گویا زخم کھانے کا خواہش مند ہے۔

In plain English

Once again my heart is somewhat restless; my chest is looking for a deep wound. The lover feels love stirring again and almost wants to be hurt.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 151
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 151۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 151. It means: Once again my heart is somewhat restless; my chest is looking for a deep wound. The lover feels love stirring again and almost wants to be hurt.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دل، عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 151 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دل کو پھر کچھ بے چینی ہے؛ سینہ کسی گہرے زخم کی تلاش میں ہے۔ عاشق محسوس کرتا ہے کہ محبت پھر جاگ رہی ہے اور وہ گویا زخم کھانے کا خواہش مند ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار