پھر جگر کھودنے لگا ناخن — مرزا غالب

پھر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے

phir jigar khodne lagaa naakhunaamad-e-fasl-e-laala-kaari hai

  • جگر jigarکلیجہ (liver, the seat of passion)
  • آمد aamadآنا (arrival)
  • لالہ کاری laala-kaariلالے کے پھول اگانا (planting red tulips)

آسان تشریح

ناخن پھر جگر کو کریدنے لگے ہیں؛ لالہ اگانے کا موسم آ گیا ہے۔ محبت کے سرخ زخموں کو بہار کے سرخ لالے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

In plain English

Once again my nails have begun to dig at my heart; the season for growing red tulips has come. The red wounds of love are compared to the red tulips of spring.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 151
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 151۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 151. It means: Once again my nails have begun to dig at my heart; the season for growing red tulips has come. The red wounds of love are compared to the red tulips of spring.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت، عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 151 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

ناخن پھر جگر کو کریدنے لگے ہیں؛ لالہ اگانے کا موسم آ گیا ہے۔ محبت کے سرخ زخموں کو بہار کے سرخ لالے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار