وہی صد رنگ نالہ فرسائی — مرزا غالب

وہی صد رنگ نالہ فرسائیوہی صد گونہ اشک باری ہے

vahi sad-rang naala-farsaaivahi sad-goona ashk-baari hai

  • صد رنگ sad-rangسو طرح کی (of a hundred kinds)
  • نالہ فرسائی naala-farsaaiرونا دھونا، فریاد (lamenting)
  • اشک باری ashk-baariآنسو بہانا (shedding tears)

آسان تشریح

وہی سو رنگ کی فریاد اور وہی سو طرح کی اشک باری ہے۔ محبت لوٹ آئی ہے اور اس کے ساتھ سارا پرانا غم بھی۔

In plain English

The same lament in a hundred tones, the same weeping in a hundred ways. Love has come back, and with it all the old sorrow.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 152. It means: The same lament in a hundred tones, the same weeping in a hundred ways. Love has come back, and with it all the old sorrow.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

وہی سو رنگ کی فریاد اور وہی سو طرح کی اشک باری ہے۔ محبت لوٹ آئی ہے اور اس کے ساتھ سارا پرانا غم بھی۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار