عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ — مرزا غالب

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔکہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

ishq par zor nahin hai ye voh aatish ghaalibke lagaae na lage aur bujhaae na bane

  • زور zorاختیار (control, force)
  • آتش aatishآگ (fire)

آسان تشریح

غالب، عشق پر کسی کا اختیار نہیں؛ یہ ایسی آگ ہے جو لگانے سے نہیں لگتی اور بجھانے سے نہیں بجھتی۔ عشق اپنی مرضی سے آتا ہے اور اپنی مرضی سے رہتا ہے۔

In plain English

No one has power over love, Ghalib; it is a fire that will not light when you try to light it, and will not go out when you try to put it out. Love comes and stays on its own terms.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 180. It means: No one has power over love, Ghalib; it is a fire that will not light when you try to light it, and will not go out when you try to put it out. Love comes and stays on its own terms.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

غالب، عشق پر کسی کا اختیار نہیں؛ یہ ایسی آگ ہے جو لگانے سے نہیں لگتی اور بجھانے سے نہیں بجھتی۔ عشق اپنی مرضی سے آتا ہے اور اپنی مرضی سے رہتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار