میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل — مرزا غالب

میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دلاس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے

main bulaataa to hoon us ko magar ai jazba-e-dilus pe ban jaae kuchh aisi ke bin aae na bane

  • جذبۂ دل jazba-e-dilدل کی کشش (the pull of the heart)
  • بن جائے ban jaaeایسی حالت ہو جائے (such a state comes over)

آسان تشریح

میں اسے بلاتا تو ہوں، مگر اے دل کی کشش، اس پر ایسی کیفیت طاری کر دے کہ آئے بغیر اس سے رہا نہ جائے۔ عاشق اپنی تڑپ سے کہتا ہے کہ وہ مقناطیس کی طرح محبوب کو کھینچ لائے۔

In plain English

I do call her, but, O pull of my heart, make something happen to her so that she cannot help coming. The lover asks his own longing to work like a magnet on the beloved.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 179. It means: I do call her, but, O pull of my heart, make something happen to her so that she cannot help coming. The lover asks his own longing to work like a magnet on the beloved.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

میں اسے بلاتا تو ہوں، مگر اے دل کی کشش، اس پر ایسی کیفیت طاری کر دے کہ آئے بغیر اس سے رہا نہ جائے۔ عاشق اپنی تڑپ سے کہتا ہے کہ وہ مقناطیس کی طرح محبوب کو کھینچ لائے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار