موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہے — مرزا غالب

موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہےتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے

maut ki raah na dekhoon? ke bin aae na rahetum ko chaahoon? ke na aao to bulaae na bane

  • راہ نہ دیکھوں raah na dekhoonانتظار نہ کروں (should I not wait for)

آسان تشریح

کیا میں موت کا انتظار نہ کروں جو آئے بغیر نہیں رہتی؟ کیا تمہیں چاہوں جو نہ آؤ تو بلانے سے بھی نہ آؤ؟ موت محبوب سے زیادہ وفادار ہے کہ وہ ضرور آتی ہے۔

In plain English

Should I not wait for death, which never fails to come? Should I long for you, who will not come however much I call? Death is more reliable than the beloved: it always arrives.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 180. It means: Should I not wait for death, which never fails to come? Should I long for you, who will not come however much I call? Death is more reliable than the beloved: it always arrives.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

کیا میں موت کا انتظار نہ کروں جو آئے بغیر نہیں رہتی؟ کیا تمہیں چاہوں جو نہ آؤ تو بلانے سے بھی نہ آؤ؟ موت محبوب سے زیادہ وفادار ہے کہ وہ ضرور آتی ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار