اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا — مرزا غالب

اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیاہاتھ آئیں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

is nazaakat kaa buraa ho voh bhale hain to kyaahaath aaen to unhen haath lagaae na bane

  • نزاکت nazaakatنازک پن (delicacy)
  • ہاتھ آئیں haath aaenمل جائیں (if one gets hold of them)

آسان تشریح

اس نزاکت کا برا ہو؛ وہ اچھے ہیں تو کیا؟ ہاتھ آ بھی جائیں تو انہیں ہاتھ لگانے کی ہمت نہ ہو۔ محبوب کا حسن اتنا نازک ہے کہ عاشق کو دور ہی رکھتا ہے۔

In plain English

Curse such delicacy; so what if she is lovely? Even if I got hold of her, I could not bring myself to touch her. Her beauty is so fragile that it keeps the lover at a distance.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 180. It means: Curse such delicacy; so what if she is lovely? Even if I got hold of her, I could not bring myself to touch her. Her beauty is so fragile that it keeps the lover at a distance.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

اس نزاکت کا برا ہو؛ وہ اچھے ہیں تو کیا؟ ہاتھ آ بھی جائیں تو انہیں ہاتھ لگانے کی ہمت نہ ہو۔ محبوب کا حسن اتنا نازک ہے کہ عاشق کو دور ہی رکھتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار