غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر — مرزا غالب

غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگرکوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

ghair phirtaa hai liye yoon tere khat ko ke agarkoi poochhe ke ye kyaa hai to chhupaae na bane

  • غیر ghairرقیب (the rival)
  • چھپائے نہ بنے chhupaae na baneچھپایا نہ جا سکے (cannot be hidden)

آسان تشریح

رقیب تیرا خط اس طرح لیے پھرتا ہے کہ اگر کوئی پوچھے یہ کیا ہے تو چھپایا نہ جا سکے۔ عاشق کو شک ہے کہ رقیب جان بوجھ کر خط کی نمائش کر رہا ہے۔

In plain English

The rival goes about carrying your letter so openly that if anyone asks what it is, he cannot hide it. The lover suspects the rival is showing off the letter on purpose.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 180. It means: The rival goes about carrying your letter so openly that if anyone asks what it is, he cannot hide it. The lover suspects the rival is showing off the letter on purpose.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

رقیب تیرا خط اس طرح لیے پھرتا ہے کہ اگر کوئی پوچھے یہ کیا ہے تو چھپایا نہ جا سکے۔ عاشق کو شک ہے کہ رقیب جان بوجھ کر خط کی نمائش کر رہا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار