کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے — مرزا غالب
کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائےکاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
khel samjhaa hai kahin chhor na de bhool na jaaekaash yoon bhi ho ke bin mere sataae na bane
کھیلkhelتفریح (a game, a pastime)
ستائےsataaeتنگ کیے (tormenting)
آسان تشریح
وہ مجھے ستانے کو کھیل سمجھتا ہے؛ ڈر ہے کہیں اکتا کر چھوڑ نہ دے اور بھول نہ جائے۔ کاش ایسا ہو کہ مجھے ستائے بغیر اس سے رہا نہ جائے۔ ستم بھی غنیمت ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ یاد تو کرتا ہے۔
In plain English
She treats tormenting me as a game; I fear she may tire of it and forget me. If only she could not do without tormenting me. Even cruelty is welcome, because it means she still thinks of him.
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 179. It means: She treats tormenting me as a game; I fear she may tire of it and forget me. If only she could not do without tormenting me. Even cruelty is welcome, because it means she still thinks of him.
کارڈ بنائیں
واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179 سے لیا ہے۔
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
وہ مجھے ستانے کو کھیل سمجھتا ہے؛ ڈر ہے کہیں اکتا کر چھوڑ نہ دے اور بھول نہ جائے۔ کاش ایسا ہو کہ مجھے ستائے بغیر اس سے رہا نہ جائے۔ ستم بھی غنیمت ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ یاد تو کرتا ہے۔