کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہےپردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
keh sake kaun ke ye jalva-gari kis ki haiparda chhoraa hai voh us ne ke uthaae na bane
جلوہ گریjalva-gariاپنا حسن دکھانا (display of splendour)
پردہpardaحجاب (veil)
آسان تشریح
کون کہہ سکتا ہے کہ یہ جلوہ کس کا ہے؟ اس نے ایسا پردہ ڈالا ہے جو اٹھایا نہ جا سکے۔ یہ شعر عموماً خدا کے بارے میں سمجھا جاتا ہے جو کائنات میں ہر جگہ نظر آتا ہے مگر اس کے پیچھے چھپا بھی ہے۔
In plain English
Who can say whose splendour this is? He has let fall a veil that no one can lift. The couplet is usually read as being about God, visible everywhere in the world yet hidden behind it.
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 180. It means: Who can say whose splendour this is? He has let fall a veil that no one can lift. The couplet is usually read as being about God, visible everywhere in the world yet hidden behind it.
کارڈ بنائیں
واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 سے لیا ہے۔
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
کون کہہ سکتا ہے کہ یہ جلوہ کس کا ہے؟ اس نے ایسا پردہ ڈالا ہے جو اٹھایا نہ جا سکے۔ یہ شعر عموماً خدا کے بارے میں سمجھا جاتا ہے جو کائنات میں ہر جگہ نظر آتا ہے مگر اس کے پیچھے چھپا بھی ہے۔