ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق — مرزا غالب

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی

ek hangaame pe mauqoof hai ghar ki raunaqnauha-e-gham hi sahi naghma-e-shaadi na sahi

  • موقوف mauqoofمنحصر (depends on)
  • رونق raunaqچہل پہل (liveliness)
  • نوحۂ غم nauha-e-ghamماتم (lament)
  • نغمۂ شادی naghma-e-shaadiخوشی کا گیت (song of joy)

آسان تشریح

گھر کی رونق کسی ہنگامے پر ہی ٹکی ہوتی ہے؛ خوشی کا گیت نہ سہی، غم کا نوحہ ہی سہی۔ خاموشی غم سے بدتر ہے؛ زندگی کی کوئی بھی آواز ویرانی سے بہتر ہے۔

In plain English

A house comes alive only when something is happening in it; let it be a lament if not a wedding song. Silence is worse than sorrow; any sound of life is better than emptiness.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 160
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 160۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “na hui gar mere marne se tasalli na sahi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 160. It means: A house comes alive only when something is happening in it; let it be a lament if not a wedding song. Silence is worse than sorrow; any sound of life is better than emptiness.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 160 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

گھر کی رونق کسی ہنگامے پر ہی ٹکی ہوتی ہے؛ خوشی کا گیت نہ سہی، غم کا نوحہ ہی سہی۔ خاموشی غم سے بدتر ہے؛ زندگی کی کوئی بھی آواز ویرانی سے بہتر ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار