نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحرا — مرزا غالب

نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحراگر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلیٰ نہ سہی

nafas-e-qais ke hai chashm-o-charaagh-e-sahraagar nahin sham'-e-siyah-khaana-e-lailaa na sahi

  • قیس qaisمجنوں کا اصل نام (Qais, Majnun's real name)
  • چشم و چراغ chashm-o-charaaghرونق، روشنی (the light, the pride)
  • سیہ خانۂ لیلیٰ siyah-khaana-e-lailaaلیلیٰ کا سیاہ خیمہ (Laila's dark tent)

آسان تشریح

قیس یعنی مجنوں کی سانس پورے صحرا کی روشنی ہے؛ اگر وہ لیلیٰ کے سیاہ خیمے کا چراغ نہیں تو نہ سہی۔ سچے عاشق کا جذبہ ویرانے کو روشن کر دیتا ہے چاہے محبوب کے گھر تک نہ پہنچے۔

In plain English

Majnun's breath is the light of the whole desert; so what if it is not the lamp in Laila's dark tent. The true lover's passion lights up the wilderness even if it never reaches the beloved's home.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 159
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 159۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “na hui gar mere marne se tasalli na sahi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 159. It means: Majnun's breath is the light of the whole desert; so what if it is not the lamp in Laila's dark tent. The true lover's passion lights up the wilderness even if it never reaches the beloved's home.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 159 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

قیس یعنی مجنوں کی سانس پورے صحرا کی روشنی ہے؛ اگر وہ لیلیٰ کے سیاہ خیمے کا چراغ نہیں تو نہ سہی۔ سچے عاشق کا جذبہ ویرانے کو روشن کر دیتا ہے چاہے محبوب کے گھر تک نہ پہنچے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار