عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھو — مرزا غالب

عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالبؔ اگر عمرِ طبیعی نہ سہی

ishrat-e-sohbat-e-khoobaan hi ghaneemat samjhona hui ghaalib agar umr-e-tabee'i na sahi

  • عشرت ishratخوشی، لطف (pleasure)
  • غنیمت ghaneematقیمتی موقع (a blessing, a windfall)
  • عمرِ طبیعی umr-e-tabee'iپوری قدرتی عمر (a full natural lifespan)

آسان تشریح

حسینوں کی صحبت کی خوشی کو ہی غنیمت سمجھو؛ غالب، اگر پوری عمر نہ ملی تو نہ سہی۔ عمر کی لمبائی کی فکر کے بجائے آج کی اچھی صحبت کا لطف اٹھاؤ۔

In plain English

Count the joy of time spent with lovely people as a blessing; Ghalib, if you do not live out a full life, so be it. Enjoy good company now rather than worry about how long you will live.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 160
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 160۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “na hui gar mere marne se tasalli na sahi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 160. It means: Count the joy of time spent with lovely people as a blessing; Ghalib, if you do not live out a full life, so be it. Enjoy good company now rather than worry about how long you will live.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 160 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

حسینوں کی صحبت کی خوشی کو ہی غنیمت سمجھو؛ غالب، اگر پوری عمر نہ ملی تو نہ سہی۔ عمر کی لمبائی کی فکر کے بجائے آج کی اچھی صحبت کا لطف اٹھاؤ۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار