گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے — مرزا غالب

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

go haath ko jumbish nahin aankhon mein to dam hairehne do abhi saaghar-o-meenaa mere aage

  • گو goاگرچہ (although)
  • جنبش jumbishحرکت (movement)
  • ساغر و مینا saaghar-o-meenaaجام اور صراحی (the cup and the flask)

آسان تشریح

اگرچہ ہاتھ ہل نہیں سکتے مگر آنکھوں میں ابھی دم ہے؛ جام اور صراحی ابھی میرے سامنے رہنے دو۔ جسم جواب دے جائے تب بھی زندگی کی لذت سے محبت باقی رہتی ہے۔

In plain English

Though my hands can no longer move, there is still life in my eyes; leave the cup and the flask in front of me a while longer. Even when the body fails, the love of life's pleasures remains.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 195. It means: Though my hands can no longer move, there is still life in my eyes; leave the cup and the flask in front of me a while longer. Even when the body fails, the love of life's pleasures remains.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

اگرچہ ہاتھ ہل نہیں سکتے مگر آنکھوں میں ابھی دم ہے؛ جام اور صراحی ابھی میرے سامنے رہنے دو۔ جسم جواب دے جائے تب بھی زندگی کی لذت سے محبت باقی رہتی ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار