بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟ — مرزا غالب

بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟غلامِ ساقیِ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے

bahut sahi gham-e-geeti, sharaab kam kyaa hai?ghulaam-e-saaqi-e-kausar hoon mujh ko gham kyaa hai

  • غمِ گیتی gham-e-geetiدنیا کا غم (the sorrow of the world)
  • ساقیِ کوثر saaqi-e-kausarجنت کے حوضِ کوثر کا ساقی، حضرت علیؓ (the cup-bearer of Kausar, a title of Ali)

آسان تشریح

مانا کہ دنیا کے غم بہت ہیں، مگر کیا شراب کم ہے؟ میں ساقیِ کوثر کا غلام ہوں، مجھے کس بات کا غم؟ دنیا کی مشکلوں کا جواب شاعر کے نزدیک ایمان اور عقیدت ہے۔

In plain English

Granted, the sorrows of the world are many; but is there any shortage of wine? I serve the cup-bearer of Kausar, so what grief can touch me? Faith and devotion are the poet's answer to the world's troubles.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “bahut sahi gham-e-geeti, sharaab kam kyaa hai?”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 203. It means: Granted, the sorrows of the world are many; but is there any shortage of wine? I serve the cup-bearer of Kausar, so what grief can touch me? Faith and devotion are the poet's answer to the world's troubles.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: ایمان اور خدا، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

مانا کہ دنیا کے غم بہت ہیں، مگر کیا شراب کم ہے؟ میں ساقیِ کوثر کا غلام ہوں، مجھے کس بات کا غم؟ دنیا کی مشکلوں کا جواب شاعر کے نزدیک ایمان اور عقیدت ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار