تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے؟ — مرزا غالب

تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے؟رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے

tumhaari tarz-o-ravish jaante hain ham kyaa hai?raqeeb par hai agar lutf to sitam kyaa hai

  • طرز و روش tarz-o-ravishطور طریقہ (manner and ways)
  • لطف lutfمہربانی (kindness)
  • ستم sitamظلم (cruelty)

آسان تشریح

ہم تمہارا طور طریقہ خوب جانتے ہیں۔ اگر رقیب پر مہربانی ہے تو پھر ظلم اور کیا ہے؟ کسی اور پر کی گئی مہربانی عاشق کے لیے سب سے بڑا ستم ہے۔

In plain English

We know your ways well. If you are kind to the rival, then what else is cruelty? Kindness shown to someone else is the worst cruelty to the lover.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “bahut sahi gham-e-geeti, sharaab kam kyaa hai?”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 203. It means: We know your ways well. If you are kind to the rival, then what else is cruelty? Kindness shown to someone else is the worst cruelty to the lover.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

ہم تمہارا طور طریقہ خوب جانتے ہیں۔ اگر رقیب پر مہربانی ہے تو پھر ظلم اور کیا ہے؟ کسی اور پر کی گئی مہربانی عاشق کے لیے سب سے بڑا ستم ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار