جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ — مرزا غالب

جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلا کرے کوئی

jab tavaqqo hi uth gai ghaalibkyon kisi kaa gilaa kare koi

  • توقع tavaqqoامید (expectation)
  • گلا gilaaشکایت (complaint)

آسان تشریح

غالب، جب کسی سے امید ہی نہ رہی تو کوئی کسی کی شکایت کیوں کرے؟ شکایت ٹوٹی ہوئی امید سے پیدا ہوتی ہے؛ امید ہی نہ ہو تو گلے کی گنجائش نہیں رہتی۔

In plain English

Ghalib, once you have stopped expecting anything from anyone, why complain about anyone at all? Complaints come from disappointed hopes; with no hopes left, there is nothing to complain about.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ابنِ مریم ہوا کرے کوئی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ibn-e-maryam huaa kare koi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 203. It means: Ghalib, once you have stopped expecting anything from anyone, why complain about anyone at all? Complaints come from disappointed hopes; with no hopes left, there is nothing to complain about.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، امید · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

غالب، جب کسی سے امید ہی نہ رہی تو کوئی کسی کی شکایت کیوں کرے؟ شکایت ٹوٹی ہوئی امید سے پیدا ہوتی ہے؛ امید ہی نہ ہو تو گلے کی گنجائش نہیں رہتی۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار