علامہ محمد اقبال کی نظم · ۲۴ اشعار (مکمل)

ایک مکڑا اور مکھی

بانگِ درا کی ’’بچوں کے لیے‘‘ مکمل نظم (ماخوذ)، صفحات ۱۲ تا ۱۴۔ مکڑا خوشامد کر کے مکھی کو جال میں پھنسا لیتا ہے: یہ کہانی سکھاتی ہے کہ خوشامد بے خبروں کو کیسے پھانستی ہے۔

Ek Makraa Aur Makkhi (A spider and a fly): nazm by Allama Muhammad Iqbal, with Roman Urdu, word meanings and a plain explanation of each couplet.

A complete poem "for children", marked "adapted" (maakhooz) in Bang-e-Dra, pages 12 to 14. A spider flatters a fly into his web: a fable about how flattery traps the unwary.

۱

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑااس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارا

ik din kisi makkhi se ye kehne lagaa makraais raah se hotaa hai guzar roz tumhaaraa

  • مکڑا makraaجالا بننے والا کیڑا (spider)
  • گزر guzarآنا جانا (passing by)

آسان تشریح

ایک دن مکڑے نے کسی مکھی سے کہا کہ تمہارا روز اس راستے سے گزر ہوتا ہے۔ کہانی مکڑے کے دوستانہ سلام سے شروع ہوتی ہے۔

In plain English

One day a spider said to a fly: you pass along this way every day. The fable opens with the spider's friendly greeting.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 12 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۲

لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمتبھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا

lekin meri kutiyaa ki na jaagi kabhi qismatbhoole se kabhi tum ne yahaan paaon na rakhaa

  • کٹیا kutiyaaچھوٹا سا گھر (a little hut)
  • بھولے سے bhoole seغلطی سے بھی (even by mistake)

آسان تشریح

لیکن میری کٹیا کی قسمت کبھی نہ جاگی؛ تم نے غلطی سے بھی یہاں قدم نہ رکھا۔ مکڑا ناراضی کا ڈھونگ رچاتا ہے تاکہ مکھی شرمندہ ہو۔

In plain English

But my little hut was never lucky; you never set foot here, not even by mistake. The spider pretends to be hurt so the fly feels guilty.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 12 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۳

غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہےاپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا

ghairon se na miliye to koi baat nahin haiapnon se magar chaahiye yoon khinch ke na rehnaa

  • غیروں ghaironاجنبیوں (strangers)
  • کھنچ کے نہ رہنا khinch ke na rehnaaدور دور نہ رہنا (not to keep aloof)

آسان تشریح

اجنبیوں سے نہ ملو تو کوئی بات نہیں، مگر اپنوں سے یوں دور نہیں رہنا چاہیے۔ مکڑا خود کو اپنا کہہ کر اعتماد جیتنا چاہتا ہے۔

In plain English

It does not matter if you avoid strangers, but you should not keep away from your own people like this. The spider calls himself family to win trust.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۴

آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میریوہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا

aao jo mere ghar mein to izzat hai ye merivoh saamne seerhi hai jo manzoor ho aanaa

  • عزت izzatعزت افزائی (an honour)
  • منظور manzoorپسند (agreeable)

آسان تشریح

اگر میرے گھر آؤ تو یہ میری عزت ہے؛ وہ سامنے سیڑھی ہے، آنا چاہو تو آ جاؤ۔ یہ سیڑھی دراصل جالے کے دھاگے ہیں۔

In plain English

If you come into my house it will be an honour for me; there are the stairs in front of you, if you would like to come. The 'stairs' are the threads of the web.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۵

مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولیحضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا

makkhi ne suni baat jo makre ki to bolihazrat kisi naadaan ko deeje gaa ye dhokaa

  • نادان naadaanبے وقوف (a fool)
  • دھوکا dhokaaفریب (trick)

آسان تشریح

مکھی نے مکڑے کی بات سنی تو بولی: حضرت، یہ دھوکا کسی بے وقوف کو دیجیے گا۔ شروع میں مکھی اس کی چال سمجھ جاتی ہے۔

In plain English

When the fly heard the spider she said: sir, try this trick on some fool. At first the fly is wise to him.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۶

اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہےجو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا پھر نہیں اترا

is jaal mein makkhi kabhi aane ki nahin haijo aap ki seerhi pe charhaa phir nahin utraa

  • جال jaalپھندا (net, web)

آسان تشریح

یہ مکھی اس جال میں کبھی نہیں آئے گی؛ جو آپ کی سیڑھی پر چڑھا پھر نیچے نہیں اترا۔ مکھی جانتی ہے کہ مہمانوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔

In plain English

This fly will never come into that net; whoever climbs your stairs never comes down again. She knows what happens to visitors.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۷

مکڑے نے کہا واہ فریبی مجھے سمجھےتم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا

makre ne kahaa vaah farebi mujhe samjhetum saa koi naadaan zamaane mein na ho gaa

  • فریبی farebiدھوکے باز (a cheat)
  • زمانے zamaaneدنیا (the world)

آسان تشریح

مکڑے نے کہا: واہ، مجھے دھوکے باز سمجھا! تم جیسا نادان دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔ وہ ناراض ہونے کا ناٹک کرتا ہے۔

In plain English

The spider said: well, well, you take me for a cheat! There can be no one in the world as foolish as you. He acts offended.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۸

منظور تمہاری مجھے خاطر تھی وگرنہکچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا

manzoor tumhaari mujhe khaatir thi vagarnakuchh faaeda apnaa to meraa is mein nahin thaa

  • خاطر khaatirمہمان نوازی (hospitality)
  • وگرنہ vagarnaورنہ (otherwise)

آسان تشریح

مجھے تو بس تمہاری خاطر داری منظور تھی، ورنہ اس میں میرا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بے غرضی کا دعویٰ بھی چال کا حصہ ہے۔

In plain English

I only wanted to look after you; otherwise there was nothing in it for me. Pretending to be selfless is part of the trick.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۹

اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سےٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا

urti hui aai ho khudaa jaane kahaan sethehro jo mere ghar mein to hai is mein buraa kyaa

  • ٹھہرو thehroرکو (stay)

آسان تشریح

نہ جانے کہاں سے اڑتی ہوئی آئی ہو؛ میرے گھر ٹھہر جاؤ تو اس میں کیا برائی ہے؟ وہ تھکے مسافر کو آرام کی پیشکش کرتا ہے۔

In plain English

You have flown in from God knows where; what is wrong with resting at my house? He offers rest to a tired traveller.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۰

اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیںباہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا

is ghar mein kai tum ko dikhaane ki hain cheezenbaahar se nazar aataa hai chhoti si ye kutiyaa

  • کئی kaiبہت سی (many)

آسان تشریح

اس گھر میں تمہیں دکھانے کو بہت سی چیزیں ہیں؛ باہر سے یہ چھوٹی سی کٹیا لگتی ہے۔ وہ اندر کی چیزوں کا لالچ دیتا ہے۔

In plain English

There are many things in this house to show you; from outside it only looks like a little hut. He tempts her with what is inside.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۱

لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردےدیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا

latke hue darvaazon pe baareek hain pardedeevaaron ko aaeenon se hai main ne sajaayaa

  • باریک baareekپتلے، نازک (fine, delicate)
  • آئینوں aaeenonشیشوں (mirrors)

آسان تشریح

دروازوں پر باریک پردے لٹک رہے ہیں اور دیواروں کو میں نے آئینوں سے سجایا ہے۔ جالے کے چمکتے دھاگوں کو پردے اور آئینے کہا گیا ہے۔

In plain English

Fine curtains hang on the doors, and I have decorated the walls with mirrors. The shining threads of the web are described as curtains and mirrors.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۲

مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونےہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا

mehmaanon ke aaraam ko haazir hain bichhaunehar shakhs ko saamaan ye muyassar nahin hotaa

  • بچھونے bichhauneبستر (beds)
  • میسر muyassarحاصل (available)

آسان تشریح

مہمانوں کے آرام کے لیے بستر حاضر ہیں؛ یہ سامان ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔ وہ آرام کی شیخی مار کر پھندے کو اور پرکشش بناتا ہے۔

In plain English

Beds are ready for my guests' comfort; not everyone has such things. He boasts of comfort to make the trap more inviting.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۳

مکھی نے کہا خیر یہ سب ٹھیک ہے لیکنمیں آپ کے گھر آؤں یہ امید نہ رکھنا

makkhi ne kahaa khair ye sab theek hai lekinmain aap ke ghar aaoon ye ummeed na rakhnaa

  • امید ummeedتوقع (expectation)

آسان تشریح

مکھی نے کہا: خیر، یہ سب ٹھیک ہے لیکن یہ امید نہ رکھنا کہ میں آپ کے گھر آؤں گی۔ وہ اب بھی انکار کرتی ہے۔

In plain English

The fly said: fine, all that may be true, but do not expect me to come into your house. She still refuses.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۴

ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائےسو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا

in narm bichhaunon se khudaa mujh ko bachaaeso jaae koi in pe to phir uth nahin saktaa

  • نرم narmملائم (soft)

آسان تشریح

خدا مجھے ان نرم بستروں سے بچائے؛ جو ان پر سو جائے وہ پھر اٹھ نہیں سکتا۔ مکھی آرام کے پیچھے چھپا خطرہ دیکھ لیتی ہے۔

In plain English

God save me from those soft beds; whoever sleeps on them can never get up again. The fly sees through the comfort to the danger.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۵

مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کیپھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا

makre ne kahaa dil mein suni baat jo us kiphaansoon ise kis tarah ye kam-bakht hai daanaa

  • پھانسوں phaansoonپکڑوں، جال میں لاؤں (trap)
  • کم بخت kam-bakhtبدقسمت (یہاں جھنجھلاہٹ) (wretched (here, in annoyance))
  • دانا daanaaعقل مند (clever)

آسان تشریح

اس کی بات سن کر مکڑے نے دل میں کہا: اسے کیسے پھانسوں؟ یہ کم بخت تو عقل مند ہے۔ وہ اپنی ترکیب بدلتا ہے۔

In plain English

Hearing this, the spider said to himself: how shall I trap her? The wretch is clever. He changes his plan.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۶

سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میںدیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا

sau kaam khushaamad se nikalte hain jahaan meindekho jise duniyaa mein khushaamad kaa hai bandaa

  • خوشامد khushaamadجھوٹی تعریف (flattery)
  • بندا bandaaغلام (slave)

آسان تشریح

دنیا میں سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں؛ جسے دیکھو خوشامد کا غلام ہے۔ نظم کا سبق خود مکڑے کی زبان سے۔

In plain English

A hundred jobs get done in this world by flattery; everyone you see is a slave to it. The poem's lesson in the spider's own words.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۷

یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بیاللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا

ye soch ke makkhi se kahaa us ne bari biallaah ne bakhshaa hai baraa aap ko rutbaa

  • بڑی بی bari biمحترمہ (madam)
  • رتبا rutbaaدرجہ، مرتبہ (rank, status)

آسان تشریح

یہ سوچ کر اس نے مکھی سے کہا: بڑی بی، اللہ نے آپ کو بڑا مرتبہ دیا ہے۔ اب خوشامد شروع ہوتی ہے۔

In plain English

With this in mind he said to the fly: madam, God has given you a high rank. The flattery begins.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۸

ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبتہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا

hoti hai use aap ki soorat se mohabbatho jis ne kabhi ek nazar aap ko dekhaa

  • صورت sooratشکل (face, looks)

آسان تشریح

جس نے آپ کو ایک نظر بھی دیکھا اسے آپ کی صورت سے محبت ہو جاتی ہے۔ مزید خوشامد۔

In plain English

Anyone who has seen you even once falls in love with your looks. More flattery.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۱۹

آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاںسر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا

aankhen hain ke heere ki chamakti hui kaniyaansar aap kaa allaah ne kalghi se sajaayaa

  • کنیاں kaniyaanٹکڑے (chips, fragments)
  • کلغی kalghiتاج کا پر (a crest, plume)

آسان تشریح

آپ کی آنکھیں ہیرے کی چمکتی کنیاں ہیں اور اللہ نے آپ کے سر کو کلغی سے سجایا ہے۔ وہ ایک ایک کر کے اس کے حسن کی تعریف کرتا ہے۔

In plain English

Your eyes are like sparkling chips of diamond, and God has crowned your head with a plume. He praises her looks one by one.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۲۰

یہ حسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائیپھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا

ye husn, ye poshaak, ye khoobi, ye safaaiphir is pe qayaamat hai ye urte hue gaanaa

  • پوشاک poshaakلباس (dress)
  • قیامت qayaamatکمال (یہاں) (a marvel (here))

آسان تشریح

یہ حسن، یہ لباس، یہ خوبی، یہ صفائی، اور پھر اڑتے ہوئے گانا تو قیامت ہے! مکھی کی بھنبھناہٹ کو گانا کہا گیا ہے۔

In plain English

Such beauty, such dress, such grace, such neatness, and on top of it, that marvellous singing as you fly! The buzz of a fly becomes a song.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۲۱

مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجیبولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا

makkhi ne suni jab ye khushaamad to paseejiboli ke nahin aap se mujh ko koi khatkaa

  • پسیجی paseejiنرم پڑ گئی (softened)
  • کھٹکا khatkaaخطرہ، اندیشہ (worry, fear)

آسان تشریح

جب مکھی نے یہ خوشامد سنی تو نرم پڑ گئی اور بولی کہ مجھے آپ سے کوئی اندیشہ نہیں۔ تعریف نے وہ کام کر دیا جو دلیل نہ کر سکی۔

In plain English

When the fly heard this flattery she softened and said: I have no fear of you. Praise has done what argument could not.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۲۲

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میںسچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا

inkaar ki aadat ko samajhti hoon buraa mainsach ye hai ke dil tornaa achchhaa nahin hotaa

  • انکار inkaarمنع کرنا (refusing)

آسان تشریح

میں انکار کی عادت کو برا سمجھتی ہوں؛ سچ یہ ہے کہ کسی کا دل توڑنا اچھا نہیں۔ یہی شرافت اس کی تباہی بنتی ہے۔

In plain English

I think it a bad habit to keep saying no; the truth is, it is not nice to break someone's heart. Politeness becomes her downfall.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۲۳

یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سےپاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا

ye baat kahi aur uri apni jagah sepaas aai to makre ne uchhal kar use pakraa

  • اچھل کر uchhal karکود کر (leaping)

آسان تشریح

یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اڑی؛ قریب آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑ لیا۔ پھندا بند ہو جاتا ہے۔

In plain English

Saying this she flew from her place; when she came near, the spider leapt and caught her. The trap closes.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں
۲۴

بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئیآرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا

bhookaa thaa kai roz se ab haath jo aaiaaraam se ghar baith ke makkhi ko uraayaa

  • اڑایا uraayaaکھا گیا (gobbled up)

آسان تشریح

وہ کئی دن سے بھوکا تھا؛ اب جو ہاتھ آئی تو آرام سے گھر بیٹھ کر مکھی کو کھا گیا۔ سبق یہ ہے کہ خوشامدیوں سے بچو، ان کی میٹھی باتوں کے پیچھے مطلب چھپا ہوتا ہے۔

In plain English

He had been hungry for days; now that she was in his grip, he sat at home and ate the fly at his leisure. The moral: beware of flatterers, whose sweet words hide selfish aims.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
12، 13، 14 · اسکین ۱، اسکین ۲، اسکین ۳
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-29)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 12, 13, 14.

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام

بہترین کلام