انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں — علامہ محمد اقبال

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میںسچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا

inkaar ki aadat ko samajhti hoon buraa mainsach ye hai ke dil tornaa achchhaa nahin hotaa

  • انکار inkaarمنع کرنا (refusing)

آسان تشریح

میں انکار کی عادت کو برا سمجھتی ہوں؛ سچ یہ ہے کہ کسی کا دل توڑنا اچھا نہیں۔ یہی شرافت اس کی تباہی بنتی ہے۔

In plain English

I think it a bad habit to keep saying no; the truth is, it is not nice to break someone's heart. Politeness becomes her downfall.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 14. It means: I think it a bad habit to keep saying no; the truth is, it is not nice to break someone's heart. Politeness becomes her downfall.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: نوجوان اور طلبہ · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

میں انکار کی عادت کو برا سمجھتی ہوں؛ سچ یہ ہے کہ کسی کا دل توڑنا اچھا نہیں۔ یہی شرافت اس کی تباہی بنتی ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار