اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے — علامہ محمد اقبال

اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہےجو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا پھر نہیں اترا

is jaal mein makkhi kabhi aane ki nahin haijo aap ki seerhi pe charhaa phir nahin utraa

  • جال jaalپھندا (net, web)

آسان تشریح

یہ مکھی اس جال میں کبھی نہیں آئے گی؛ جو آپ کی سیڑھی پر چڑھا پھر نیچے نہیں اترا۔ مکھی جانتی ہے کہ مہمانوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔

In plain English

This fly will never come into that net; whoever climbs your stairs never comes down again. She knows what happens to visitors.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 13. It means: This fly will never come into that net; whoever climbs your stairs never comes down again. She knows what happens to visitors.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: نوجوان اور طلبہ · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

یہ مکھی اس جال میں کبھی نہیں آئے گی؛ جو آپ کی سیڑھی پر چڑھا پھر نیچے نہیں اترا۔ مکھی جانتی ہے کہ مہمانوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار