غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے — علامہ محمد اقبال

غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہےاپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا

ghairon se na miliye to koi baat nahin haiapnon se magar chaahiye yoon khinch ke na rehnaa

  • غیروں ghaironاجنبیوں (strangers)
  • کھنچ کے نہ رہنا khinch ke na rehnaaدور دور نہ رہنا (not to keep aloof)

آسان تشریح

اجنبیوں سے نہ ملو تو کوئی بات نہیں، مگر اپنوں سے یوں دور نہیں رہنا چاہیے۔ مکڑا خود کو اپنا کہہ کر اعتماد جیتنا چاہتا ہے۔

In plain English

It does not matter if you avoid strangers, but you should not keep away from your own people like this. The spider calls himself family to win trust.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 13. It means: It does not matter if you avoid strangers, but you should not keep away from your own people like this. The spider calls himself family to win trust.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

اجنبیوں سے نہ ملو تو کوئی بات نہیں، مگر اپنوں سے یوں دور نہیں رہنا چاہیے۔ مکڑا خود کو اپنا کہہ کر اعتماد جیتنا چاہتا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار