مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی — علامہ محمد اقبال

مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولیحضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا

makkhi ne suni baat jo makre ki to bolihazrat kisi naadaan ko deeje gaa ye dhokaa

  • نادان naadaanبے وقوف (a fool)
  • دھوکا dhokaaفریب (trick)

آسان تشریح

مکھی نے مکڑے کی بات سنی تو بولی: حضرت، یہ دھوکا کسی بے وقوف کو دیجیے گا۔ شروع میں مکھی اس کی چال سمجھ جاتی ہے۔

In plain English

When the fly heard the spider she said: sir, try this trick on some fool. At first the fly is wise to him.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 13. It means: When the fly heard the spider she said: sir, try this trick on some fool. At first the fly is wise to him.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: نوجوان اور طلبہ · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

مکھی نے مکڑے کی بات سنی تو بولی: حضرت، یہ دھوکا کسی بے وقوف کو دیجیے گا۔ شروع میں مکھی اس کی چال سمجھ جاتی ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار