مکڑے نے کہا واہ فریبی مجھے سمجھے — علامہ محمد اقبال

مکڑے نے کہا واہ فریبی مجھے سمجھےتم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا

makre ne kahaa vaah farebi mujhe samjhetum saa koi naadaan zamaane mein na ho gaa

  • فریبی farebiدھوکے باز (a cheat)
  • زمانے zamaaneدنیا (the world)

آسان تشریح

مکڑے نے کہا: واہ، مجھے دھوکے باز سمجھا! تم جیسا نادان دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔ وہ ناراض ہونے کا ناٹک کرتا ہے۔

In plain English

The spider said: well, well, you take me for a cheat! There can be no one in the world as foolish as you. He acts offended.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 13. It means: The spider said: well, well, you take me for a cheat! There can be no one in the world as foolish as you. He acts offended.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

مکڑے نے کہا: واہ، مجھے دھوکے باز سمجھا! تم جیسا نادان دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔ وہ ناراض ہونے کا ناٹک کرتا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار