لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت — علامہ محمد اقبال

لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمتبھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا

lekin meri kutiyaa ki na jaagi kabhi qismatbhoole se kabhi tum ne yahaan paaon na rakhaa

  • کٹیا kutiyaaچھوٹا سا گھر (a little hut)
  • بھولے سے bhoole seغلطی سے بھی (even by mistake)

آسان تشریح

لیکن میری کٹیا کی قسمت کبھی نہ جاگی؛ تم نے غلطی سے بھی یہاں قدم نہ رکھا۔ مکڑا ناراضی کا ڈھونگ رچاتا ہے تاکہ مکھی شرمندہ ہو۔

In plain English

But my little hut was never lucky; you never set foot here, not even by mistake. The spider pretends to be hurt so the fly feels guilty.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 12
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 12۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 12. It means: But my little hut was never lucky; you never set foot here, not even by mistake. The spider pretends to be hurt so the fly feels guilty.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 12 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

لیکن میری کٹیا کی قسمت کبھی نہ جاگی؛ تم نے غلطی سے بھی یہاں قدم نہ رکھا۔ مکڑا ناراضی کا ڈھونگ رچاتا ہے تاکہ مکھی شرمندہ ہو۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار