سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں — علامہ محمد اقبال

سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میںدیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا

sau kaam khushaamad se nikalte hain jahaan meindekho jise duniyaa mein khushaamad kaa hai bandaa

  • خوشامد khushaamadجھوٹی تعریف (flattery)
  • بندا bandaaغلام (slave)

آسان تشریح

دنیا میں سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں؛ جسے دیکھو خوشامد کا غلام ہے۔ نظم کا سبق خود مکڑے کی زبان سے۔

In plain English

A hundred jobs get done in this world by flattery; everyone you see is a slave to it. The poem's lesson in the spider's own words.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 14. It means: A hundred jobs get done in this world by flattery; everyone you see is a slave to it. The poem's lesson in the spider's own words.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دنیا میں سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں؛ جسے دیکھو خوشامد کا غلام ہے۔ نظم کا سبق خود مکڑے کی زبان سے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار