آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں — علامہ محمد اقبال

آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاںسر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا

aankhen hain ke heere ki chamakti hui kaniyaansar aap kaa allaah ne kalghi se sajaayaa

  • کنیاں kaniyaanٹکڑے (chips, fragments)
  • کلغی kalghiتاج کا پر (a crest, plume)

آسان تشریح

آپ کی آنکھیں ہیرے کی چمکتی کنیاں ہیں اور اللہ نے آپ کے سر کو کلغی سے سجایا ہے۔ وہ ایک ایک کر کے اس کے حسن کی تعریف کرتا ہے۔

In plain English

Your eyes are like sparkling chips of diamond, and God has crowned your head with a plume. He praises her looks one by one.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 14. It means: Your eyes are like sparkling chips of diamond, and God has crowned your head with a plume. He praises her looks one by one.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

آپ کی آنکھیں ہیرے کی چمکتی کنیاں ہیں اور اللہ نے آپ کے سر کو کلغی سے سجایا ہے۔ وہ ایک ایک کر کے اس کے حسن کی تعریف کرتا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار