لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے — علامہ محمد اقبال

لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردےدیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا

latke hue darvaazon pe baareek hain pardedeevaaron ko aaeenon se hai main ne sajaayaa

  • باریک baareekپتلے، نازک (fine, delicate)
  • آئینوں aaeenonشیشوں (mirrors)

آسان تشریح

دروازوں پر باریک پردے لٹک رہے ہیں اور دیواروں کو میں نے آئینوں سے سجایا ہے۔ جالے کے چمکتے دھاگوں کو پردے اور آئینے کہا گیا ہے۔

In plain English

Fine curtains hang on the doors, and I have decorated the walls with mirrors. The shining threads of the web are described as curtains and mirrors.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 13. It means: Fine curtains hang on the doors, and I have decorated the walls with mirrors. The shining threads of the web are described as curtains and mirrors.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دروازوں پر باریک پردے لٹک رہے ہیں اور دیواروں کو میں نے آئینوں سے سجایا ہے۔ جالے کے چمکتے دھاگوں کو پردے اور آئینے کہا گیا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار