بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی — علامہ محمد اقبال
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئیآرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
bhookaa thaa kai roz se ab haath jo aaiaaraam se ghar baith ke makkhi ko uraayaa
اڑایاuraayaaکھا گیا (gobbled up)
آسان تشریح
وہ کئی دن سے بھوکا تھا؛ اب جو ہاتھ آئی تو آرام سے گھر بیٹھ کر مکھی کو کھا گیا۔ سبق یہ ہے کہ خوشامدیوں سے بچو، ان کی میٹھی باتوں کے پیچھے مطلب چھپا ہوتا ہے۔
In plain English
He had been hungry for days; now that she was in his grip, he sat at home and ate the fly at his leisure. The moral: beware of flatterers, whose sweet words hide selfish aims.
یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 14. It means: He had been hungry for days; now that she was in his grip, he sat at home and ate the fly at his leisure. The moral: beware of flatterers, whose sweet words hide selfish aims.
کارڈ بنائیں
واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔
یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 14 سے لیا ہے۔
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
وہ کئی دن سے بھوکا تھا؛ اب جو ہاتھ آئی تو آرام سے گھر بیٹھ کر مکھی کو کھا گیا۔ سبق یہ ہے کہ خوشامدیوں سے بچو، ان کی میٹھی باتوں کے پیچھے مطلب چھپا ہوتا ہے۔