مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے — علامہ محمد اقبال

مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونےہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا

mehmaanon ke aaraam ko haazir hain bichhaunehar shakhs ko saamaan ye muyassar nahin hotaa

  • بچھونے bichhauneبستر (beds)
  • میسر muyassarحاصل (available)

آسان تشریح

مہمانوں کے آرام کے لیے بستر حاضر ہیں؛ یہ سامان ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔ وہ آرام کی شیخی مار کر پھندے کو اور پرکشش بناتا ہے۔

In plain English

Beds are ready for my guests' comfort; not everyone has such things. He boasts of comfort to make the trap more inviting.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک مکڑا اور مکھی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek makraa aur makkhi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 13. It means: Beds are ready for my guests' comfort; not everyone has such things. He boasts of comfort to make the trap more inviting.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

مہمانوں کے آرام کے لیے بستر حاضر ہیں؛ یہ سامان ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔ وہ آرام کی شیخی مار کر پھندے کو اور پرکشش بناتا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار