دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا — مرزا غالب

دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھاآج پھر اس کی روبکاری ہے

dil-o-mizhgaan kaa jo muqaddama thaaaaj phir us ki roobakaari hai

  • مژگاں mizhgaanپلکیں (eyelashes)
  • مقدمہ muqaddamaعدالتی معاملہ (court case)
  • روبکاری roobakaariمقدمے کی پیشی (hearing)

آسان تشریح

دل اور پلکوں کا جو مقدمہ تھا آج پھر اس کی پیشی ہے۔ محبوب کی تیر جیسی پلکوں نے دل کو زخمی کیا تھا؛ وہ پرانا جھگڑا پھر عدالت میں ہے۔

In plain English

The case between the heart and the eyelashes is up for hearing again today. The beloved's lashes, like arrows, wounded the heart; the old dispute is back in court.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir kuchh ik dil ko beqaraari hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 153. It means: The case between the heart and the eyelashes is up for hearing again today. The beloved's lashes, like arrows, wounded the heart; the old dispute is back in court.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دل اور پلکوں کا جو مقدمہ تھا آج پھر اس کی پیشی ہے۔ محبوب کی تیر جیسی پلکوں نے دل کو زخمی کیا تھا؛ وہ پرانا جھگڑا پھر عدالت میں ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار