بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے — مرزا غالب

بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے

bojh voh sar se giraa hai ke uthaae na uthekaam voh aan paraa hai ke banaae na bane

  • بوجھ bojhوزن، ذمہ داری (burden)
  • آن پڑا aan paraaاچانک سامنے آ گیا (has befallen)

آسان تشریح

سر سے ایسا بوجھ گرا ہے جو اٹھائے نہیں اٹھتا، اور ایسا کام آن پڑا ہے جو بنائے نہیں بنتا۔ یہ اس بے بسی کی تصویر ہے جب زندگی کا بوجھ حد سے بڑھ جائے۔

In plain English

A burden has fallen from my head that I cannot lift again, and a task has come my way that I cannot manage. A picture of helplessness when life's load becomes too heavy.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “nukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na bane”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 180. It means: A burden has fallen from my head that I cannot lift again, and a task has come my way that I cannot manage. A picture of helplessness when life's load becomes too heavy.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

سر سے ایسا بوجھ گرا ہے جو اٹھائے نہیں اٹھتا، اور ایسا کام آن پڑا ہے جو بنائے نہیں بنتا۔ یہ اس بے بسی کی تصویر ہے جب زندگی کا بوجھ حد سے بڑھ جائے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار