کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند — مرزا غالب

کون ہے جو نہیں ہے حاجت مندکس کی حاجت روا کرے کوئی

kaun hai jo nahin hai haajat-mandkis ki haajat ravaa kare koi

  • حاجت مند haajat-mandضرورت مند (needy)
  • حاجت روا کرے haajat ravaa kareضرورت پوری کرے (fulfils a need)

آسان تشریح

کون ہے جو ضرورت مند نہیں؟ پھر کوئی کس کی ضرورت پوری کرے؟ ہر شخص خود کچھ مانگ رہا ہے، اس لیے کوئی دوسرے کی حاجت پوری کرنے کے قابل نہیں؛ یہ کام صرف خدا کا ہے۔

In plain English

Who is there that is not in need? So whose need can anyone fulfil? Everyone is asking for something, so nobody is in a position to grant another person's wish; only God can.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ابنِ مریم ہوا کرے کوئی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ibn-e-maryam huaa kare koi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 202. It means: Who is there that is not in need? So whose need can anyone fulfil? Everyone is asking for something, so nobody is in a position to grant another person's wish; only God can.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

کون ہے جو ضرورت مند نہیں؟ پھر کوئی کس کی ضرورت پوری کرے؟ ہر شخص خود کچھ مانگ رہا ہے، اس لیے کوئی دوسرے کی حاجت پوری کرنے کے قابل نہیں؛ یہ کام صرف خدا کا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار