منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید — مرزا غالب

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امیدناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

munhasir marne pe ho jis ki ummeednaa-ummeedi us ki dekhaa chaahiye

  • منحصر munhasirموقوف، ٹکی ہوئی (dependent)
  • ناامیدی naa-ummeediمایوسی (despair)

آسان تشریح

جس کی امید ہی مرنے پر ٹکی ہو، اس کی مایوسی کا اندازہ کیجیے۔ ناامیدی کے بارے میں مختصر اور گہرا شعر: آخری امید بھی خاتمہ ہی رہ گیا ہے۔

In plain English

When someone's only hope is death, imagine how deep his despair must be. A short, sharp line about hopelessness: the last hope left is the end itself.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 177. It means: When someone's only hope is death, imagine how deep his despair must be. A short, sharp line about hopelessness: the last hope left is the end itself.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: امید، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

جس کی امید ہی مرنے پر ٹکی ہو، اس کی مایوسی کا اندازہ کیجیے۔ ناامیدی کے بارے میں مختصر اور گہرا شعر: آخری امید بھی خاتمہ ہی رہ گیا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار