ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا — مرزا غالب

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میراغالبؔ کو برا کیوں کہو؟ اچھا مرے آگے

ham-pesha-o-ham-mashrab-o-ham-raaz hai meraaghaalib ko buraa kyon kaho? achchhaa mere aage

  • ہم پیشہ ham-peshaایک پیشے والا (of the same trade)
  • ہم مشرب ham-mashrabہم مزاج، ساتھ پینے والا (of the same taste, drinking companion)
  • ہم راز ham-raazراز دار (confidant)

آسان تشریح

وہ میرا ہم پیشہ، ہم مشرب اور ہم راز ہے؛ غالب کو برا کیوں کہتے ہو؟ اچھا، کہو مگر میرے سامنے نہیں۔ غالب غزل کو مسکراہٹ کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔

In plain English

He shares my trade, my tastes and my secrets; why speak ill of Ghalib? All right, do it, but not in front of me. Ghalib has the beloved defend him, and ends the ghazal with a smile.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 195. It means: He shares my trade, my tastes and my secrets; why speak ill of Ghalib? All right, do it, but not in front of me. Ghalib has the beloved defend him, and ends the ghazal with a smile.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی، خودی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

وہ میرا ہم پیشہ، ہم مشرب اور ہم راز ہے؛ غالب کو برا کیوں کہتے ہو؟ اچھا، کہو مگر میرے سامنے نہیں۔ غالب غزل کو مسکراہٹ کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار