وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں — علامہ محمد اقبال

وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواںخدا جانے جانا تھا ان کو کہاں

voh chup-chaap the aage peechhe ravaankhudaa jaane jaanaa thaa un ko kahaan

  • چپ چاپ chup-chaapخاموش (silently)
  • رواں ravaanچلتے ہوئے (moving along)

آسان تشریح

وہ خاموشی سے ایک کے پیچھے ایک چلے جا رہے تھے؛ خدا جانے انہیں کہاں جانا تھا۔ خاموش قافلہ خواب کو پراسرار بنا دیتا ہے۔

In plain English

They moved along silently, one behind the other; God knows where they were going. The quiet procession adds mystery.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ماں کا خواب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “maan kaa khwaab”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 22. It means: They moved along silently, one behind the other; God knows where they were going. The quiet procession adds mystery.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وقت اور زمانہ · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ماں کا خواب‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

وہ خاموشی سے ایک کے پیچھے ایک چلے جا رہے تھے؛ خدا جانے انہیں کہاں جانا تھا۔ خاموش قافلہ خواب کو پراسرار بنا دیتا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار