یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں — علامہ محمد اقبال

یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیںاندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں

ye dekhaa ke main jaa rahi hoon kahinandheraa hai aur raah milti nahin

  • راہ raahراستہ (path)

آسان تشریح

میں نے دیکھا کہ کہیں جا رہی ہوں؛ اندھیرا ہے اور راستہ نہیں ملتا۔ اندھیرا راستہ اس کے غم کی علامت ہے۔

In plain English

I saw that I was going somewhere; it was dark and I could not find the way. The dark road stands for her grief.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ماں کا خواب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “maan kaa khwaab”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 21. It means: I saw that I was going somewhere; it was dark and I could not find the way. The dark road stands for her grief.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ماں کا خواب‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

میں نے دیکھا کہ کہیں جا رہی ہوں؛ اندھیرا ہے اور راستہ نہیں ملتا۔ اندھیرا راستہ اس کے غم کی علامت ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار