زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے — علامہ محمد اقبال

زمرد سی پوشاک پہنے ہوئےدیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے

zumurrud si poshaak pehne huediye sab ke haathon mein jalte hue

  • زمرد zumurrudسبز قیمتی پتھر (emerald)
  • پوشاک poshaakلباس (clothes)
  • دیے diyeچراغ (oil lamps)

آسان تشریح

وہ زمرد جیسا سبز لباس پہنے تھے اور سب کے ہاتھوں میں دیے جل رہے تھے۔ سبز رنگ جنت کی علامت ہے، یعنی یہ وفات پا جانے والے بچے ہیں۔

In plain English

They were dressed in emerald green, and every one of them held a burning lamp. Green is the colour of paradise, so the boys are children who have died.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ماں کا خواب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “maan kaa khwaab”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 22. It means: They were dressed in emerald green, and every one of them held a burning lamp. Green is the colour of paradise, so the boys are children who have died.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ماں کا خواب‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

وہ زمرد جیسا سبز لباس پہنے تھے اور سب کے ہاتھوں میں دیے جل رہے تھے۔ سبز رنگ جنت کی علامت ہے، یعنی یہ وفات پا جانے والے بچے ہیں۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار