لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال — علامہ محمد اقبال

لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال

laraztaa thaa dar se meraa baal baalqadam kaa thaa dahshat se uthnaa muhaal

  • لرزتا laraztaaکانپتا (trembling)
  • دہشت dahshatخوف (terror)
  • محال muhaalناممکن (impossible)

آسان تشریح

ڈر سے میرا بال بال کانپ رہا تھا اور خوف سے قدم اٹھانا ناممکن تھا۔ بچوں کے لیے آسان انداز میں بتایا گیا کہ وہ خوف سے جم گئی تھی۔

In plain English

Every hair on my body trembled with fear; terror made it impossible to take a step. A child-friendly way of saying she was frozen with fright.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ماں کا خواب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “maan kaa khwaab”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 21. It means: Every hair on my body trembled with fear; terror made it impossible to take a step. A child-friendly way of saying she was frozen with fright.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ماں کا خواب‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

ڈر سے میرا بال بال کانپ رہا تھا اور خوف سے قدم اٹھانا ناممکن تھا۔ بچوں کے لیے آسان انداز میں بتایا گیا کہ وہ خوف سے جم گئی تھی۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار