جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب — علامہ محمد اقبال

جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تابدیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب

jo bachche ne dekhaa meraa pech-o-taabdiyaa us ne munh pher kar yoon javaab

  • پیچ و تاب pech-o-taabبے چینی، تڑپ (agitation, anguish)
  • منہ پھیر کر munh pher karمنہ موڑ کر (turning his face)

آسان تشریح

جب بچے نے میری تڑپ دیکھی تو منہ پھیر کر یوں جواب دیا۔ بیٹا اب وجہ بتانے والا ہے۔

In plain English

When the child saw how upset I was, he turned his face and answered me like this. The son is about to explain.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ماں کا خواب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “maan kaa khwaab”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 22. It means: When the child saw how upset I was, he turned his face and answered me like this. The son is about to explain.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ماں کا خواب‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

جب بچے نے میری تڑپ دیکھی تو منہ پھیر کر یوں جواب دیا۔ بیٹا اب وجہ بتانے والا ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار