نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی — علامہ محمد اقبال

نہ پروا ہماری ذرا تم نے کیگئے چھوڑ، اچھی وفا تم نے کی

na parvaa hamaari zaraa tum ne kigaye chhor, achchhi vafaa tum ne ki

  • پروا parvaaفکر (concern)
  • وفا vafaaوفاداری (faithfulness)

آسان تشریح

تم نے ہماری ذرا بھی پروا نہ کی؛ چھوڑ کر چلے گئے، خوب وفا کی! یہ پیار بھری شکایت ہے جیسے ماں بچے کو ڈانٹتی ہے۔

In plain English

You did not care for me at all; you went away and left me. What fine loyalty you showed! A loving reproach, as a mother scolds a child.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ماں کا خواب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “maan kaa khwaab”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 22. It means: You did not care for me at all; you went away and left me. What fine loyalty you showed! A loving reproach, as a mother scolds a child.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم ’ماں کا خواب‘ سے۔ ہم نے اسے بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

تم نے ہماری ذرا بھی پروا نہ کی؛ چھوڑ کر چلے گئے، خوب وفا کی! یہ پیار بھری شکایت ہے جیسے ماں بچے کو ڈانٹتی ہے۔

اسی نظم کے اور اشعار

پوری نظم

ملتے جلتے اشعار